Sunday, January 11, 2009

Oye, kya Show hai!

سٹائل ،دلکشی اورجداگانہ انداز۔عام طورپریہ الفاظ خواتین بالخصوص ایکٹریسزکے لئے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن ان تین لفظوںسے میری مرادفرحان اخترکی فلمیں ہیں جواپنی منفردسٹائلنگ ،دلکش عکاسی اورجداگانہ اندازِپیشکش سے پہچانی جاتی ہیں۔دل چاہتاہے ،ڈون ،لکشھ اورروک آن۔ڈائریکشن ،پروڈکشن ،ایکٹنگ ،سنگنگ ۔۔۔یہ میدان فرحان کواپنی صلاحیتیں بروئے کارلانے کے لئے کم پڑتے نظرآئے تواس نے ایک اوردھماکاکردیا۔این ڈی ٹی وی امیجن کے پروگرام ’’اوئے اٹس فرائیڈے ‘‘میں میزبان کی کرسی سنبھال لی۔پانچ ہفتوںسے فرحان ہمارے سامنے ہے،خوش،مسرور،قہقہے لگاتے،لطیفے سنتے اورسناتے وہ جیسے سردیوںکی راتوںکوچمکتی دوپہرمیںبدل دیتاہے ۔لگتاہے فرحان کانارمل درجہ حرارت ایک ڈگری زیادہ ہے جواسے اتنے کام کرنے کے لئے اندرسے تپش دیتارہتاہے ۔
وہ کسی کوکروڑپتی نہیںبناتا،یہاںتک کہ کسی کوکافی بھی نہیں پوچھتالیکن محفل آرائی کافن جانتاہے ۔کہاجاتاہے کہ فن وراثت میں نہیں ملا کرتا لیکن فرحان کودیکھ کریہ بات غلط ثابت ہوجاتی ہے ۔وہ جاویداخترکابیٹاہے اورجاویداخترسے کون واقف نہیں۔جاویدصاحب فلمی شاعرہیں،ایساکہنادرست نہیں ہوگا۔وہ اپنی فلمی شاعری میںفن کے نئے تقاضوںکی تکمیل اورتوسیع ضرورکرتے ہی ہیںلیکن برصغیرکی قدیم شاعری کی روایات کے احترام کوبھی ملحوظ ِخاطررکھتے ہےں ۔شعلے اورڈون جیسی فلموںکاسکرپٹ لکھاجنہیںبالی وڈکی فلمی تاریخ میںخاص اہمیت حاصل ہے ۔فرحان انہی جاویدصاحب کابیٹاہے ،صرف اتناکہنافرحان کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔اس نے خوداپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے اوراپنے آپ کوایک ہمہ جہت فنکارثابت کیاہے ۔
ایک اینٹرٹینرکی یہی خوبی ہوتی ہے کہ عمربڑھنے کے ساتھ اس میں بچپن آتاجاتاہے اورکری ایٹویٹی سن وسال کی محتاج نہیں ہوتی۔فرحان اخترکے پاس ایساکوئی سوئچ بورڈضرورہے جس سے وہ حسب ِخواہش اتنی روشنیاںپیداکردیتاہے ۔ہرگیسٹ کے ساتھ اس کی خوبصورت گفتگواور سپیشل ایکٹس قابل ِتعریف ہوتے ہیں۔فرحان کاسینس آف ہیومراورکامک ٹائمنگ لاجواب ہے ۔اب تک ’’اوئے‘‘کرنے کے لئے پانچ ایپی سوڈزمیں ریتک روشن ،مگدھاگوڈسے (فیشن فیم ماڈل)،شنکر،احسان، لوئے ،عامرخان،پریانکاچوپڑا اور دیپیکا پاڈوکون بطورسلیبرٹی گیسٹ اپنی موجودگی درج کراچکے ہیں۔بادشاہ خان کی آمدآمدہے ۔باادب باملاحظہ ہوشیار!
کہاجاتاہے کہ پہلے یہ شوکرن جوہرکوآفرکیاگیاتھالیکن کرن نے اپنی اگلی ڈائیریکٹوریل ’’مائی نیم ازخان‘‘کے بزی شیڈول کی وجہ سے ہامی نہیں بھری ۔شوکافارمیٹ اگرچہ نیانہیں ہے لیکن فرحان کی زبردست میزبانی نے اسے انفرادیت کاحامل بنادیاہے ۔شوکی ویب سائٹ پرفرحان بلاگنگ بھی کررہے ہیں۔ویب سائٹ وزٹ کرنے والے بلاگ میںہرایپی سوڈپرفرحان کے تاثرات کالطف لے سکتے ہیں۔فرحان فلموںکے ریویوزبھی لکھ رہے ہیں(کریٹکس ہوشیاررہیں!)ریویوزکی بات کریںتوان کی خوبی یہ ہے کہ بھلے ہی فرحان نے اپنے دوست اداکاروںشاہ رخ خان اورعامرخان کی فلموںپرتبصرہ کیالیکن حق ِدوستی کے ساتھ تبصرے کاحق بھی اداکیا۔اس پرفرحان ریویوزکوجوعنوان دیتے ہیں اس سے بھی فرحان کی تخلیقی صلاحیتوںکاپتہ چلتاہے جیسے عامرکی فلم گجنی کاریویواس نے
Memorable Memory Loss
کے عنوان سے لکھا۔اوئے کیاٹائٹل ہے ۔
یہ توسٹارٹ ہے۔۔۔۔ لیکن فرحان کی یہ اٹھان اس کے درخشندہ مستقبل کی طرف واضح اشارہ کررہی ہے ۔وہ ڈائریکشن دے ، پروڈیوس کرے ،ایکٹنگ ،سنگنگ ،ہوسٹنگ۔۔۔واٹ ایور۔۔۔ وہ جوکرتاہے سٹائل سے کرتاہے ۔اب یہی دیکھ لیجئے کہ اس نے ’’اوئے ‘‘ جیسے بدتمیزلفظ کوبھی سٹائلش بنادیاہے ۔
روک آنDude

Monday, January 5, 2009

Above Rating RAHMAN



جولوگ روش ِعام سے ہٹ کرچلتے ہیں ،ان کوزمانہ دیرسے پہچانتاہے ۔اے آررحمان ان گنے چنے خوش نصیب لوگوںمیں سے ایک ہیں جوسڑک سے اترکرکسی پگڈنڈی پربھی چل پڑیں تووہاںبھی سڑک بن جاتی ہے اورسڑک بھی کوئی عام سڑک نہیں بلکہ شاہراہ ِخاص ،جس کے نقطہ ء آغازپربورڈلگاہوتاہے ۔یہ شاہراہ ِعام نہیں ہے ۔آج صرف تینتالیس سال کی عمرمیںاے آررحمان کے پاس رفعت ِمقام بھی ہے اورشہرت ِدوام بھی اورسب سے بڑھ کرفن ِموسیقی پروہ حیرت انگیزقادرالکلامی جوانہیں معمول کے موسیقاروںسے ممتازکرتی ہے ۔یہ حیرت ہی شاید۔۔بنیادِفن ہے ۔کوئی بھی دَھن جب رحمان کی انگلیاںچھوکرآشیربادلیتی ہے توشش جہات کے غیرمختتم سفرپرنکل پڑتی ہے ۔اس سفرمیں خوشبوکے جزیرے بھی آتے ہیں اورستاروںکی حدیں بھی ۔خلائوںسے پارکی دنیائوںکے اس سفرمیںکبھی وہ آفاق کی وسعتوںسے جھانکتی دکھائی دیتی ہے توکبھی نہاںخانہ ء دل سے ابھرتی محسوس ہوتی ہے۔ اپنے اچھوتے اندازمیں ان گنت سامعین کے دل ودماغ کوچھونے اورنوع انسانی کو خوشحالی اورروحانی سکون دینے والی لاجواب موسیقی دینے والے اے آررحمان کوآج ان کے جنم دن پرڈھیروں ڈھیرمبارک باد!

اس کی آواززندگی جیسی

زندگی اس کی موسقی جیسی

رات کی بے چراغ بستی میں

اس کی ہردھن ہے چاندنی جیسی

میں آج تک یہ طے نہیں کرسکاکہ اے آررحمان نے جذبوںکوموسیقی دی ہے یاموسیقی کو جذبے عطاکئے ہیں ۔خیرجوبھی ہو،اے آررحمان سے میری شناسائی بہت پرانی نہ سہی ،نئی بھی نہیں ہے ۔فلم ہندوستانی کا ٹریک ’’ٹیلی فون دھن میں ہنسنے والی‘‘عالم ِہوش میں وہ پہلاگانارہاہوگاجومیں بے اختیارگنگنانے پرمجبورہوگیا۔میںتب چودہ برس کاتھا۔اب یہ یادنہیں کہ وہ ٹریک میرے دوست اعظم گوندل نے پہلے سناتھایامیں نے بہرحال جس نے سنامسمرائزہوگیااوردوسرے کوسنایااورپھرہائی سیکنڈری پاس کرنے تک ہم دونوں ڈیسک بجاکے یہ گاناگایاکرتے تھے ۔برسوںبعداعظم نے ایک روزکارڈیک پراچانک یہ ٹریک پلے کیااورڈرامائی سے اندازمیں میری طرف دیکھ کرکہا’’شاہ جی ۔یادآیا‘‘میںجواب نہیں دے سکا۔وہاںہوتاتوکوئی جواب دیتا۔میں توہائی سکول کے جوہرسیکشن میں پہنچ گیاتھا۔ہم کافی دیر گاڑی کی سیٹوںکے بجائے ہم دونوںجوہرسیکشن کے انہی مٹے مٹے سے کالے یانیلے بنچوں پربیٹھے رہے ۔

بات بھی کہاںچلی گئی ۔خیرٹیلی فون کی دھن میں کے بعد’’دوڑ‘‘آئی ۔’’اوبھنورے ‘‘زبان پررہا۔بمبئی فلم کے ٹریک دل میںاترے ۔رحمان نے توخیراس دوران میں بھی کافی کام کیالیکن میری رحمان سے اگلی ملاقات دل سے کے دل نشین ٹریک ’’اے اجنبی ‘‘کے ذریعے ہوئی ۔پھر’’پیاحاجی علیؒ‘‘کے توسط سے ۔کمال کی بات یہ ہے کہ تب تک مجھے اے آررحمان سے تعارف حاصل نہیں تھا۔ فلم پکارکاٹریک ’’کے سراسرا‘‘دل کوبڑابھایا۔قصہ مختصررحمان کی جودھن کان میں پڑتی رہی رس گھولتی ہے ۔دل میں جگہ بناتی رہی ۔پھریوں ہوا کہ میں نے فلم تال دیکھی ۔ چھوٹے بھائی نے ڈی وی ڈی خریدی تھی جومیں نے ’’اڑا‘‘لی ۔فلم تال کامیوزک مجھے اے آررحمان سے قریب کرگیا۔ یہ پوراالبم سرسنگیت کی لطافت اورترنم کے معاملے میں ایسا منفردالبم تھا جس کے حسن نے مجھے ایسااسیرکہ میںرحمان کاباقاعدہ سامع ہوگیا۔اورسامع بھی ایسانہیں کہ جہاںسننے کوملاسن لیابلکہ ۔۔۔وہ سناجومیوزک لورزکوشایدپتہ بھی نہیں ہوگا۔میں رحمان کے تامل میوزک کی بات کررہاہوں۔میں نے ٹوٹلی اے آررحمان کے نام سے اے آررحمان کی کولیکشن اکٹھاکرناشروع کی توصرف ہندی فلمی موسیقی تک محدودنہیں رہابلکہ رحمان کی فلموگرافی کی ترتیب سے ہندی اورتامل مکس کولیکشن جمع کرناشروع کردی اورتادم ِتحریراے آررحمان کی دریافت کایہ سفرابھی جاری ہے ۔ ’’روجا‘‘سے ’’گجنی‘‘تک قریب دودہائیوںمیں رحمان نے تخلیقی لحاظ سے نہایت بھرپوروقت گزاراہے ۔اس نے خوداپنے ذہن کے ساتھ ساتھ فن ِموسیقی کے ساتھ مستقبل گیرتجربے کئے ہیں۔دھنوںکو نئی ہئیت عطاکرنے کے ساتھ اس نے اس میں صوفیت کی پاکیزگی میں فطرت پسندی کی توانائی اس خوبی سے حل کردی ہے کہ دل سے بے ساختہ دادنکلتی ہے اوروہ دادصرف دادنہیں ہوتی ۔اس میں دعائوںکی بھرپورروحانیت بھی شامل ہوجاتی ہے ۔ایسالگتاہے کہ رحمان کے گیتوںمیں کوئی نظریہ ہے جو انڈرکرنٹ کی طرح دوڑرہاہے ۔چونکئے نہیں۔نظریہ رکھناکوئی غیرفنی بات نہیں بلکہ عین فن کی بنیادہے ۔میراکہناہے کہ رحمان عارضی جذبوںکاموسیقارنہیں ہے ۔اس کے گیتوںمیں حسن ہے ،نرمی ہے ،نزاکت ہے ،مسکراہٹیں،آنسو،امنگیںغرض زندگی سے لبریزاحساسات ہیں ۔رحمان کے سنگیت میں اس کاتاریخی شعورزندگی کوارتقائی رخ سے دیکھتانظرآتاہے ۔یہ حسین ،سچے اورصحت منداحساسات ہی ہیں جواس کے گیتوںمیں بعض اوقات سرگوشی کاتاثرپیداکردیتے ہیں ۔اورپھروہ سرگوشی گونج بن کرشش جہات میںپھیل جاتی ہے ۔یقین نہ آئے تو’’روجاکاٹائٹل ٹریک سنئے اورپھر’’گجنی‘‘کاٹریک ’’کیسے مجھے تم مل گئیں‘‘سنئے ۔آپ کوخودجواب مل جائے گا

اے آررحمان نے آج کے مشینی دورکے شوروشغب میں جودھنیں مرتب کی ہیں ان میں اس کے بھرپوراعتمادکی جھلک ہے ۔رحمان کی شخصیت اورموسیقی کے کئی محبوب پہلوہیں جن میں سے دوایک کاذکربے جانہ ہوگاایک تویہ کہ اس نے فن کے نئے تقاضوںکی تکمیل اور توسیع کے ساتھ برصغیرکی قدیم موسیقی کی روایات کے احترام کوبھی ملحوظ ِخاطررکھاہے ۔فن ِموسیقی کے بڑے بڑے جغادری بھی مانتے ہیں کہ نصرت فتح علی خان کے بعداے آررحمان کوموسیقی کی تاریخی روایات پربڑاعبورحاصل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جن رمزوںاورکیفیتوںسے ہماری کلاسیکی موسیقی کی تاریخ بھری پڑی ہے ،رحمان کے ہاںذرازیادہ بھرپورمعنویت کے ساتھ ملتی ہیں۔رحمان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس نے تامل میوزک سے شروعات کی لیکن عالمی سطح پرپے درپے کامیابیوںکے بعدبھی اس نے اپنی مٹی سے ناتاکبھی نہیں توڑا۔اس کی البمزپرکبھی ممبئی پن کی چھاپ نہیں پڑسکی ۔اس نے خودکوافراط وتفریط سے بچایاہے لیکن اپنے خلوص کوبے لوث رکھاہے ۔آج بھی وہ اپنی بھرپورعاجزی اورتوانائی کے ساتھ تامل فلم انڈسٹری کوبھی اپنی خدمات پیش کرتاہے اوریہی ایک بڑے اورسچے فنکارکی پہچان ہے کہ کامیابی اسے تکبرمیںمبتلانہیں کرتی ۔ خوداس کی شخصیت میں ایسی معصومیت اورسادگی ہے کہ یقین کرنامشکل ہوجاتاہے کہ یہی وہ شخص ہے جس نے اپنے توانا،جانداراور لاجواب فن سے ایک زمانے کادل جیت لیاہے ۔رحمان کے سنگیت کاکثیرسرمایہ فلمی موسیقی پرمشتمل ہے لیکن وہ صرف فلمی موسیقار نہیں ہے ۔اس کے پرائیویٹ البم اس بات کاثبوت ہیں کہ وہ اپنی ذات میں آفاقیت اورتاریخیت کاعکاس ہے ۔یہ البم رحمان کی آپ بیتی ہیں ۔جوسرگوشیاںاس کے گیتوںمیں سنائی دیتی ہیں یہاںکھل کرسامنے آتی ہیں۔وندے ماترم ہویاحال یہی میں ریلیزہونے والاالبم کنکشنزہو۔اس کاہرالبم لاطبقاتی سوچ کی لاطبقاتی موسیقی سے عالمی سطح پرہونے والے انسانی مسائل کواجاگرکرتاسنائی دیتاہے ۔یقین نہ ہوتووندے ماترم سے ’’گروزآف پیس ‘‘(نصرت فتح علی خان،اے آررحمان )سن لیجئے ،توبہ توبہ سنئے یا’’کنکشنز‘‘سے جیاسے جیا‘‘آپ کوہرٹریک میں اس آفاقیت کی پرچھائیاںملیں گی ۔رحمان کے اردگردکی دنیامیں جوہورہاہے ،وہ اس کوخوبصورت تردیکھناچاہتاہے ۔ایسامیں نہیں کہتابلکہ رحمان کی پرائیویٹ البمزکہتی ہیں۔ رحمان کی ہرتان اندھیروںکے تسلط میں یقین واعتمادکاننھاسادیاثابت ہوتی ہے اورآپ کوتسلیم کرناپڑتاہے کہ رحمان انسانیت وموسیقیت کاایسادل کشاسنگم ہے جس کاکوئی بدل نہیںہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رحمان کانام کئی عالمی آرگنائزیشنوںکے ساتھ جڑاہے جوانسانی فلاح وبہبودکے لئے کام کررہی ہیں۔ رحمان کے معاملے میں بلاجھجک یہ کہاجاسکتاہے کہ ان کے گانے فلموںکے لئے کمپوزتوضرورکئے گئے ہیںلیکن صرف فلمی نہیں رہے۔پتھرکے شہربمبئی کی فلمی دنیامیں جہاںاچھے اچھے فنکارپیسے کی چکاچوندمیں کھوجاتے ہیںوہاںکم ہی نام ایسے ذہن میں آتے ہیں جنہوںنے اپنے فن سے سمجھوتا نہیں کیا۔اس اعتبارسے رحمان کانام ایک ممتازاورمنفردنام ہے ۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ فلم کاموسیقاربھی مجبورہوتاہے کہ سچویشن کے مطابق سنگیت دے لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ یہی ایک موسیقارکی انفرادیت کوسب سے بڑاچیلنج بھی ہے ۔ اگرچہ رحمان بذات ِخووشاعرنہیں لیکن اس کے سنگیت میں حددرجہ شعریت اورمعنویت ہے ۔اس پراسکی خوش نصیبی یہ کہ اسے ہندوستان کے صف ِاول کے شعرامیسرآئے جن میںگلزار صاحب،جاویداختر،مجروح سلطان پوری ،آنندبخشی کے نام آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ رحمان کافلمی ٹریک ریکارڈعمدہ موسیقی کے ساتھ ساتھ ادبی حیثیت کاحامل بھی قرارپاتاہے اورسنگیت کامزہ بھی دوبالاہوجاتاہے ۔ا س طرح کرداراور منظرکے وہ پہلوروشن ہوجاتے ہیں جورائٹراورڈائریکٹرابھارنے میں ناکام رہتے ہیں۔رحمان کاسنگیت جتنی فلموںکے ساتھ آتاہے وہ کہانی ،کرداروںاورمنظروںکاایک اہم حصہ ہے اورکے ان گنت گیتوںپررحمان کی انمٹ چھاپ ہے ۔میں توکہوںگاکہ رحمان نے انتہائی چابک دستی اورذمہ داری سے موسیقی کووظیفہ ء حیات میں تبدیل کردیاہے۔ اس نے صوفیانہ اورکمرشل میوزک کواس خوبصورتی سے اکٹھاکیاہے کہ دونوںزاویوںسے لطف دیتاہے ۔چھیاںچھیاںہو،ست رنگی ہو،تیرے بنا،کرئیے ناں،عشق بناہوں یاخالصتاقوالی جیسے پیاحاجی علیؒ،خواجہؒ میرے خواجہ یاؒ ذکر(نیتاجی سبھاس چندربوس)ان کودنیاداری کی نظرسے سنیئے یاصوفیانہ زاوئیے سے ،ان کی لذت کم نہیں ہوگی ۔یہ توچندمثالیں ہیں ورنہ رحمان کے سرمایہ ء تخلیق میں ایسے اوربہت جواہرپارے ہیں جن کی چمک دمک مدتوںتک ماندنہیں پڑے گی ۔(رحمان کے فن کی خصوصیات گننے اوراس کی مثالیں دینے کے لئے ایک پوسٹ بہت کم ہے۔یہ کام آئندہ پرچھوڑتے ہیں)
شاعری ہویاموسیقی ،ان کاپیغام سرحدیں نہیں روک سکتیں ۔ٍٍٍرحمان کاسنگیت اس کے دل سے نکلتاہے اوران گنت انسانوںکے زخموںسے چھلنی حساس سینوںمیں دھڑکتے دلوںمیں اترجاتاہے ۔ختم ِسخن پرمیری دعاہے کہ رحمان پھلے ،پھولے ،پروان چڑھے اوروہ گاتے مسکراتے ہوئے یونہی دلوںمیں اترتارہے ۔
انوارزندہ صحبت باقی

Thursday, October 9, 2008

کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی

فیض نے پرورش ِلوح وقلم کے لئے دل پرگزرنے والی وارداتوںکورقم کرناعین خدمت ِادب ِعالیہ بتایاہے ۔کل کی پوسٹ بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔
میری، ہوش سنبھالنے کے بعدپہلی دوستی کہانی سے ہوئی ۔۔۔کہانی ،کسی بھی روپ میں ہو۔۔۔ناول ہو،افسانہ ہو،ڈرامہ ہو۔۔۔گوش سے ، ہوش سے ،بصارت سے ،بصیرت سے بحیثیت ِمجموعی کہانی میری گہری وابستگی کامحوررہی ہے۔کہانی پڑھی بھی لکھی بھی ۔۔۔اوردیکھی بھی ! چونکہ آنکھوں دیکھازیادہ پراثرہوتاہے اس لئے شایدڈرامہ میری طبیعت سے زیادہ میچ کرتاہے ۔ڈرامہ بہت دیکھا۔۔۔آپ سوچیں گے کہ میں نے۔۔ دیکھے۔۔۔کالفظ کیوںاستعمال نہیں کیا۔۔۔کہ ڈرامے بہت دیکھے ۔۔۔بتاتاہوں۔
سیف زلفی نے کہاتھاکہ اندازِبیاںسے بات بدل جاتی ہے ۔کوئی بات نئی بات نہیں ہوتی ۔۔۔اسی بات کومیں یوںکہتاہوںکہ کوئی کہانی نئی کہانی نہیں ہوتی ۔۔۔اندازِتحریراسے ایک نیازاویہ دیتاہے ۔دنیاوہی ہے ،انسان وہی ہیں ،رشتے ناتے وہی ہیں ۔۔۔معاملات ِزندگی طے شدہ ہیں ۔گلا س آدھابھراہوابھی ہے ۔۔۔۔آدھاخالی بھی ہے ۔۔۔ایک نقطے کوتین سوساٹھ زاویوںسے دیکھاجاسکتاہے ۔یہی زاویہ ء نظرکہانیوںمیں حسن پیداکرتاہے ۔ڈرامے کو نکھارتا ہے ۔میں ڈراموںکوکبھی جمع کی شکل میں نہیں دیکھتا۔۔۔ڈرامہ میرے نزدیک اکائی ہے ۔۔۔ایک !۔۔۔شایدیہ مثل اس بات کی وضاحت کر پائے کہ ایک مچھلی سارے جل کوگنداکردیتی ہے ۔۔۔(گنداکرنے کامطلب برے اثرات مرتب کرنابھی لیاجاسکتاہے ) ایسے ہی ایک برا ڈرامہ بحیثیت ِمجموعی ڈرامے کا تاثرخراب کرتاہے اورایک اچھا ڈرامہ ایزآہول ڈرامے کی آرائش کردیتاہے ۔میراارادہ ڈرامے کی ساخت پرداخت پرکوئی روشنی ڈالنے کاہرگزنہیں ہے ۔یہ سب جومذکورہ بالاسطورمیں تحریرکیاگیاہے ۔یہ کہانی کوخراج ِتحسین پیش کرنے کے لئے تھا۔۔۔کہانی جوہرگھرکی ہے ۔۔۔کہانی جوگھرگھرکی ہے ۔نواب آرزو(سلیوٹ کے ساتھ )کے ان چند لفظوںنے میراکام کردیا۔خواہ مخواہ پوسٹ طویل ہوتی ۔جی ہاںیہ پوسٹ بھی کہانی گھرگھرکی ۔۔۔کے اختتام پرہی مبنی ہے ۔کیاکیاجائے کہ آخری چندہفتوںسے اس کے ساتھ ایک خاص دل بستگی سی ہوگئی تھی ۔۔۔۔ہاں،یادآیا۔۔۔جب سے پاروتی (ساکشی تنور)مینٹل اسائیلم گئی تھی تب سے میں نے اسے دوبارہ جوائن کیا۔اس سے پہلے توکبھی بھولاکبھی یادکیاوالی کیفیت رہی ،لیکن یہ آخری سپیل میرے خیال میں کہانی کامہتروپول (بہترین)حصہ رہاہے ۔پلوی (اچنت کور)،ساشا(چیتن )،ادتی ،پرگتی اورچھوٹوکے ٹیم ورک نے پاروتی کوگھرپہنچایااوردل میں گھرکرگئے ۔پاروتی جی کوتومیں سابقہ پوسٹ میں ہی پرنام کرچکاہوں۔۔۔دوسری بارپھرسہی ۔میرے خیال میں کہانی ۔۔۔سے کمزوربالاجی ٹیلی فلمزکے دواورسوپ تھے،قیامت اورکرم اپنااپنا۔۔۔ان میں سے کسی کوختم کردیاجاتا تو زیادہ بہترتھا۔کہانی ۔۔۔توپھرایک ریکارڈسازمعرکہ تھاجیساکہ پچھلی پوسٹ میں بھی میںنے لکھاتھاکہ یہ ڈرامہ سوپ اوپیراکے لئے ایک سنگ ِمیل رہے گا۔بات ہوتی ہے کرداروںکے فیمیلئرہونے کی ۔۔۔پاروتی ،اوم،کمل ،دادی ،ساشا،پلوی ،شروتی ۔۔۔اوربہت سے ایسے نام ہیں اسی ایک سیریل کے جوآئیکون بن چکے ہیں۔۔۔کسی شاعرنے کہاتھاکہ کہانی کی اسی میں آبروہے ۔اسے انجام سے ملنے نہ دینا۔شایدسوپ اوپیرااسی خیال کی تعبیرہے۔ یہ کہانی ختم ہوئی۔۔۔ لیکن کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔ یہ میرامانناہے ۔۔۔پاروتی کی نہیں توتلسی کی ۔۔ نہیں توکسی اورکی ۔۔۔کہانیاں ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔لیکن کہانی ختم نہیںہوتی ۔۔۔ بالکل اسی طرح جیسے ۔۔۔زندگیاںختم ہوجاتی ہیں ۔۔۔لیکن زندگی ۔۔۔زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی ۔

Wednesday, October 8, 2008

کہانی گھرگھرکی ،سوپ اوپیراکے لئے میل کاپتھرہے


جی ہاں۔۔۔آٹھ سال سے گھرگھرکی کہانی سناتی یہ دلچسپ سیریزبالآخراختتام پزیرہے ۔آپ سوپ سیریلزکی لاکھ مخالفت کرتے ہوں، کرتے رہئے ،سچ یہی ہے کہ سوپ سیریلزنے برصغیرپاک وہندمیںڈرامے کوایک نیاآسمان عطاکیاہے ۔یہ اوربات ہے کہ ہم اب بھی اپنے پرانے فارمولوںپرقائم ہیں،سوپیچھے ہیںلیکن اس وقت میراموضوع ِسخن اس کے سوااورنہیںہے کہ ایک اچھی سبق آموزسیریزکاخاتمہ ہواچاہتاہے ۔ہمارے ڈپٹی نذیراحمدصاحب نے تومدتوںپہلے مراۃ العروس لکھ کراصغری جیسی بہواردوادب کوسونپ دی تھی جسے بالاجی نے پاروتی تلسی اورپریرناجیسے شہرہ ء آفاق کرداروںمیںبدل کر گھرگرہستی میںمصروف خواتین کا دل موہ لیاہے ۔تلسی تونہیںالبتہ پاروتی یعنی ساکشی جی کی گھرواپسی کاوقت آگیاہے ۔کل کی حسین بہواورآج کی بومب شیل پریرنایعنی شویتاتیواری توپہلے ہی رخصت ہوچکی ہیں(کسوٹی زندگی کی ،جوگزشتہ برس انجام کوپہنچااورتاحال کسی سوپ سیریل سے محروم ہیں)بہرحال سورج طلوع ہوتاہے تواسے غروب بھی ہوناہوتاہے ۔کہانی گھرگھرکی کوبھی ختم ہوناتھاسووقت آگیاہے لیکن اس سوپ سیریل سے جڑے سبھی کردارتادیرناظرین کے ذہن ودل سے محونہیں ہوسکیں گے ۔ساکشی جی ۔۔۔ہیٹس آف ٹویو!بہت کم ایساہوتاہے کہ قلمکاراپنے جذبات کوزبان نہیں دے پاتا۔میرے لئے بھی ایک ایساہی لمحہ ہے ۔

Friday, August 8, 2008

Singhh ho to aisa....


Review by: Taran Adarsh IndiaFM

Just a word of caution before you watch this film: SINGH IS KINNG is not for the intellectuals or those pretending to be one. It's not for the hard-nosed critics either.

Now read on…

Vipul Shah. Anees Bazmee. Akshay Kumar. Katrina Kaif. Four names for whom success has become a habit. That makes SINGH IS KINNG the most awaited movie of the season. Must add, the wait was worth it!
You know the rules when you watch a hardcore entertainer: Just don't look for logic. If you do, too bad for you, for you would never enjoy a film of this genre and more specifically, SINGH IS KINNG.
Anees Bazmee's films are very high on entertainment. The plotline may be paper-thin, perhaps ludicrous and farcical, but when did Bazmee ever promise a SCHINDLER'S LIST or a SAVING PRIVATE RYAN? SINGH IS KINNG works because it delivers what it promises: Full on entertainment!
Bazmee has the knack of making immensely watchable fares that cater to the aam junta. SINGH IS KINNG isn't a laughathon in entirety. Comedy, romance, action and drama, everything is well synchronised in those 2.10 hours here.
But, wait, SINGH IS KINNG isn't a foolproof product. It has its share of flaws, the turn of events aren't captivating at times, but SINGH IS KINNG moves so fast and packs in so much, there's no time to think or analyze.
The final word? SINGH IS KINNG is a delicious and scrumptious pav-bhaji served in the finest cutlery. Your taste buds are sure to relish it... and ask for more!
Lakhan Singh aka Lucky [Sonu Sood] is the King of the Australian underworld, accompanied by his associates [played by Javed Jaffrey, Neha Dhupia, Manoj Pahwa, Yashpal Sharma, Kamal Chopra and Sudhanshu Pande]. Far away, in a small village in Punjab, where Lucky was born, there exists someone more notorious than him - Happy Singh [Akshay Kumar].
The village is fed up of Happy's magnanimity, which has resulted in a number of hilariously disastrous situations. Out of desperation, they decide to send him on a long trip [that will keep him out of the village for a while!] to bring Lucky back to Punjab, as his despicable deeds were maligning their image in Australia. The happy-go-lucky bumpkin, taking his mission a bit too seriously, embarks on his journey, accompanied by his friend, Rangeela [Om Puri], who hates Happy for dragging him into it.
The high point of his journey is his chance meeting with Sonia [Katrina Kaif], with whom he falls in love, but upon reaching his destination, things take a precarious turn as he runs into a series of comic misadventures, leaving him penniless. He is fortunate to find warmth and affection in an elderly lady [Kirron Kher].
In a strange turn of events, an attempt on Lucky's life is foiled by a well-intentioned Happy, who fights off the attackers by risking his own life. Following the altercation, Lucky lands up in hospital paralyzed and Happy, unexpectedly, finds the tables turned on him when he is expected to assume the role of the new King.
Few minutes into the film and you know that SINGH IS KINNG is a lavish spectacle that's high on entertainment. Sonu Sood chasing a gora assassin at the very start or minutes later, Akshay chasing a hen - SINGH IS KINNG starts with gusto.
And Bazmee doesn't let you wear your thinking caps all through the first hour. From India to Egypt to Australia, from the comforts of his home in Punjab, to the humble abode of a woman selling flowers in Sydney [Kirron Kher], SINGH IS KINNG involves you in the journey.
And then Akshay becomes the King. Oh, how he becomes the King is equally hilarious. The sequence at the hospital [Sonu Sood is diagnosed with a weird disorder] is simply hilarious. There's a twist in the tale at the intermission point and the second hour, therefore, shifts gears - it changes from kabhi funny, kabhi drama to a prem kahani. It's smooth sailing till there's another twist towards the pre-climax [wouldn't like to reveal it, since it would act as a spoiler]. But, frankly, the film could've done without this track. The narrative, thankfully, is back on tracks soon after.
Anees Bazmee has a flair for writing great entertainers that work big time with the masala-loving junta. If you've loved NO ENTRY and WELCOME, you'd love SINGH IS KINNG too. This time, Bazmee shares the writing credits with Suresh Nair and the duo come up with some real wacky episodes. In terms of production design, this is Bazmee's most lavish fare so far. It's a grandiose product. Pritam's music is already popular and it compliments the goings-on completely. 'Bhootni Ke', 'Jee Karda' and the title track stand out, while 'Teri Ore' is easy on the nerves. Ben Nott and Sanjay Gupta's cinematography is top notch.
Akshay Kumar takes rapid strides with SINGH IS KINNG. Sure, you've seen him in comic fares time and again and perhaps, there might be a doubt, Will he carry it off yet again? Oh yes, he does! There's no saturation point as far as this actor is concerned. He holds your attention in every sequence, irrespective of how strong the scene is, and that's the biggest compliment for any actor. SINGH IS KINNG without Akki is like an ocean without marine life. Akshay rules!The camera loves Katrina Kaif and it shows in SINGH IS KINNG too. She looks bewitching and enacts her part with tremendous confidence. Kirron Kher is superb and so is Om Puri. Terrific performances! They compliment Akki so well. Ranvir Shorey is first-rate. Sonu Sood is another actor who's finally getting his due in Hindi films. Javed Jaffrey's character works big time till he does a somersault in the pre-climax. Neha Dhupia is engaging. The nok-jhonk between Sudhanshu Pandey and Yashpal Sharma is perfect. Manoj Pahwa is good.
On the whole, SINGH IS KINNG lives up to the hype and hoopla. Want a joyride without taxing your brains? Board the SINGH IS KINNG wagon. At the box-office, the film will fetch a hurricane-like start. The paid previews, the opening weekend, the first week business, everything will be record-shattering. Notwithstanding the new oppositions in the weeks to come, SINGH IS KINNG will rule the hearts of the aam junta [whose verdict matters the most] as also the box-office, proving a record holder in the final tally. Blockbuster Hit!

Thursday, July 31, 2008

بچنانوجوانو۔۔۔راکھی آگئی

جی ہاں۔۔۔راکھی ساونت کی عکاسی کے لئے اس سے بہترعنوان نہیںمل سکا۔وہ ہے ہی ایسی۔ اپنے لباس اور اندازواطوارسے خوداپنا اشتہار دینے والی عریانی اورگناہ کاچلتاپھرتادعوت نامہ ۔
جوہری ہتھیاروںکے ذخیرے کی طرح ایک ایسی تباہ کن قوت ، جس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرسکتا۔وہی راکھی ساونت نائن ایکس فیملی چینل کا ڈانس شویہ ہے جلوہ اپنی دم دارپرفارمنس سے جیتنے کے بعدزوم ٹی وی کے چیٹ شوداراکھی ساونت شوزکے ذریعے دیکھنے والوںکے ہوش اڑانے آگئی ہے۔راکھی ساونت سے کچھ بعیدنہیں۔۔۔کچھ نہیں۔مان لیجئے ۔اس کاماضی اس بات کاگواہ ہے اوراس نے بھی کبھی کسی خبرپرپردہ ڈالنے یااپنے آپ کوستی ساوتری ثابت کرنے کی منافقت سے کام نہیںلیا۔سچ سے لے کرافواہوںتک سب کواپنے چٹکیوںمیں اڑادیا۔شایداسی وجہ سے انڈسٹری کے لوگ اب اسے پسندبھی کرنے لگے ہیں۔نائن ایکس کے شومیں راکھی ساونت صحیح معنوںمیں ناظرین کے سامنے آئی ۔۔۔حیرت ہونے لگی کہ آخرکون ہے راکھی ساونت۔اس کااصل کیاہے۔اس شوکی سب سے جینوئن اوربے ساختہ پرفارمرتھی راکھی۔۔۔۔اس رئیلٹی شوکی ایک ایک پرفارمنس یادگاررہے گی۔اس کے سبھی حریف اس کے مداح تھے ۔۔۔حریف بھی کون۔۔۔رونت رائے،روہت رائے،حسین کوجروالا،شویتاتیواری ،پراچی ڈیسائی اور شرد ملہوتراکے علاوہ پروگرام کی ہوسٹس سمرتی ایرانی اورساکشی تنورجن کی اپنی فنکارانہ صلاحیتوںکوایک دنیاتسلیم کرتی ہے۔وہ سب راکھی کے گن گاتے نظرآئے اوراپنے منہ سے نتائج سے پہلے ہی ،بڑی خوشی سے راکھی کواس شوکاونرقراردینے لگے تھے۔اس کی ہرپرفارمنس میں کچھ بات تھی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پٹاخہ کڑی کی ٹیم کیوٹ کیوٹ سے بچوںپرمشتمل تھی ۔راکھی نے بچوںسمیت سب کادل اور یہ ہے جلوہ کاٹائٹل ۔۔۔سب جیت لیااوریہ ۔۔۔۔بڑی بات ہے۔ اس لئے اب آپ بھی راکھی ساونت کون ہے کیاہے سے بے نیازہوکراس کانیاچیٹ شودیکھئے ۔
داراکھی ساونت شوز۔اس میں آپ کی ملاقات اسی بولڈاینڈبیوٹی فل ،ہاٹ اینڈسیکسی ،داسپائسی ،تیکھی مرچی،بے جھجک اوربے دھڑک راکھی ساونت سے ہونے والی ہے ۔ فتنہ سامانی کے اسی بارودسے لیس ،جس کے لئے وہ عام رائے میںجانی پہچانی جاتی ہے۔کپورخاندان کی میراث اس گانے (بچنااے حسینو،لومیںآگیا)کوذرامیرے ترمیم کردہ شبدوں سے گنگناکردیکھئے ۔راکھی ساونت کاساراجلوہ،ساراسپائس آپ کے ہونٹوںپرنہ آئے تومیں اس پوسٹ کانام بدل دوںگا۔بچنانوجوانو۔۔۔راکھی آگئی

Sunday, July 13, 2008

Kal ki iconic bahu...Aaj ki iconic Producer

Smriti Irani has produced popular serials like Thodi Si Zameen Thoda Sa Aasmaan, Virrudh and Mere Apne, Smriti Irani is all set to present another serial named as Waaris and it will be telecast in the famous entertainment channel, Zee TV. Smriti, who created history by casting the Evergreen Vinod Khanna in Ugraya Productions’ Mere Apne on 9X has once again come up with an ace as she gets the very popular face of Bollywood, the National Award winner Ashish Vidyarthi to play the dad in her Zee show, Waaris.
An actor par excellence, Ashish Vidyarthi who has donned various villainous roles on the silver screen returns to television after a long gap. A well-placed source says, “Smritiji wanted a well-known face playing the father in Waaris. Ashish Vidyarthi was confirmed just yesterday to play dad to Iqbal Khan and Yuvraj Malhotra in the serial”.
Aashka Goradia of Kkusum fame will be paired opposite Iqbal Khan. When buzzed the actress for confirmation, Aashka said, “Talks are on for the show, but nothing has been confirmed yet”. The dancing sensation Bhawna Roy will make her television debut with Waaris. For the uninitiated, Bhawna Roy who is presently seen in the 9X reality show Vodafone Yeh Hai Jalwa in Hussein Kuwajerwala’s ‘Kal Ke Kalakaar’ team was promised a lead role in Smriti’s upcoming serial, and here is Smriti offering Bhawna a pivotal role in Waaris. In addition to Bhawna Roy, Smriti is planning to cast Khushboo Purohit who was seen in Sharad Malhotra’s ‘Toofani Toli’ in the 9X reality show, Vodafone Yeh Hai Jalwa…
Here’s wishing all the very best to Smriti Irani for her new venture!!