Thursday, October 8, 2009
Tuesday, October 6, 2009
اینٹرٹینمنٹ کے لئے کچھ بھی کرے گا
انڈین ٹی وی نے ڈرامے کی سج دھج اور طنطنے میں جوسرخاب کے پرلگائے ہیں ‘اُن سے انکارممکن نہیں ہے ۔ایک طویل عرصے تک پاکستانی ڈرامے کی ان کے ڈرامہ کے آگے وہی حیثیت رہی جوباون گزوں کی دنیامیں مٹی کی ہوتی ہے ۔۔۔ایک وقت پاکستانی ڈرامہ دیکھنے کے لئے جومحاورے رائج تھے ۔۔۔متروک ہوگئے ۔۔۔زمانہ اس تیزی سے بدلاکہ پاکستانی ٹی وی چینلزکی ویورشپ ماضی کی داستان بن گئی ۔۔۔لیکن اب دن بدل رہے ہیں ۔۔۔ ۔۔انڈین ٹی وی کاڈرامافی زمانہ بھیڑچال کاشکارہے ۔
بات طویل ہوجائے گی اس لئے ڈائریکٹ موضوع پرآتے ہیں ۔۔۔کلرزٹی وی نے”بیری پیا“کے نام سے ایک نیاڈراماسیریل لانچ کیاہے ۔۔۔اگرآپ کوزی ٹی وی کاڈراماسیریل ”اگلے جنم موہے بٹیاہی کیجو“یادہو(یادبھی کرنے کی ضرورت کہاں ہے کہ ابھی سیریل چل ہی رہاہے )۔۔۔توصاحب وہ سیریل دیکھئے اور پھر”بیری پیا“دیکھئے ۔۔۔آپ کو یہ نتیجہ اخذکرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ دونوں سیریلزکی فضاایک ہی ہے ۔۔۔اگرچہ موضوع
ایک نہیں ہے ۔۔۔لیکن ماحول ‘کرداراوران کاگیٹ اپ اور ٹریٹمنٹ بالکل ایک جیساہے۔۔۔
کلرزکے حق میں یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ یہ چینل عوامی مسائل کوہائی لائٹ کرنے والے سیریلزکے ذریعے کامیاب ہواہے ۔۔۔توبجاہے لیکن بھیڑچال کاحصہ بن جانے سے اس کی مقبولیت میں چارچاندنہیں لگنے والے ۔۔۔بلکہ کمی ہی آئے گی ۔۔۔کسی بھی چینل کی ترقی اور تنزلی کاہم یوں بھی اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ دوسروں کے سیٹ کئے ہوئے ٹرینڈزکوفالوکر رہاہے یاخوددوسروں کے لئے ٹرینڈسیٹ کررہا ہے۔۔۔اگرآپ کویادہوتو”نائن ایکس“نامی ایک چینل قریب دوسال پہلے بڑی دھوم دھام سے ٹی وی کے افق پرطلوع ہواتھا ۔۔۔لیکن یہی کلرزتھاجس نے ان کی اپ کمنگ پروڈکشنز اٹھائیں ۔۔۔”رام لعل ۔۔۔انیس سوسینتالیس سے “۔۔۔کی توجھلکیاں نائن ایکس دکھارہاتھااور کلرزنے وہ ڈراماخریدلیا۔۔۔جھلکیاں ہی کیا۔۔۔فیئرفیکٹر ۔۔۔اور بگ باس کاپہلاسیزن قبل ازیں سونی ٹی وی پرچل چکاتھا۔۔۔یہ پروگرام پہلے ہی عوام میں اپنی جگہ رکھتے تھے ۔۔۔نتیجہ یہ ہواکہ نائن ایکس کادِیابجھنے کوآگیااورپروڈکشنز نہ ملنے کی وجہ سے سونی کوبھی دن میں تارے نظر آگئے ۔۔۔ایک سال سونی ٹی وی پربڑابھاری گزرا۔۔۔اس دوران انہوں نے اپنانیالائن اپ تیارکیا اور ایک سال بعدپھرسے خودکوبحال کرنے میں کامیاب ہوسکا۔قصہ مختصر ۔۔۔انوارزندہ صحبت باقی
Friday, September 25, 2009
WHAT'S YOUR RAASHEE Review by Taran Adarsh
There's another reason why WHAT'S YOUR RAASHEE? is special. Casting the same actor in 12 different roles is nothing short of a challenge - for the film-maker, for the writer and also for the actor in question.Now let's analyze. WHAT'S YOUR RAASHEE? works in parts. There are 12 raashees, which means 12 independent stories, plus there's a story of the dulha [Harman Baweja] and his family as well, also there's a story of a family-friend [Darshan Jariwala] running concurrently. That makes it 14 stories, 13 songs, approx. 3.20 hours running time...
Now to the vital question: Does WHAT'S YOUR RAASHEE? work?
Let me answer this question by raising a vital point. Did the running time [of 3 + hours] of SHOLAY, HUM AAPKE HAIN KOUN, LAGAAN, JODHAA AKBAR and GHAJINI bother you? I am sure, it didn't. The problem with WHAT'S YOUR RAASHEE? is not its length/running time. The problem is its content. If any film stands on a weak foundation [writing], even 1.30 hours seem never-ending. Conversely, if the writing is power-packed, even 3.30 hours of entertainment seems less. Let's not blame the length, for the biggest grosser of the world to date - TITANIC - also had a running time of 3.17 hours. WHAT'S YOUR RAASHEE?, unfortunately, lacks the power to keep you hooked and that's the prime reason why its running time/length is sure to be criticised. Oh yes, WHAT'S YOUR RAASHEE? has some wonderful moments and award-worthy performance[s] by Priyanka Chopra, but everything pales into insignificance when the written material is weak. To cut a long story short, WHAT'S YOUR RAASHEE? is a king-sized disappointment from one of the finest storytellers of India. WHAT'S YOUR RAASHEE? is the story of Yogesh Patel [Harman Baweja], a young man who, in his heart, has always wanted a love marriage. Till suddenly he is told that he must find his dream girl within ten days to save his family from utter ruin. Finding the dream girl is tough enough. Finding her in a hurry is even tougher. His solution is simple; he will meet one girl from each raashee - sun sign, as he feels that is the best way to make sure he finds a suitable wife, while also giving himself twelve chances to fall in love. Two meetings per day gives him six days to meet them, three days to make the final decision and he can get married on the tenth day, or so he thinks. Based on the novel 'Kimball Ravenswood' by Madhu Rye, the concept of WHAT'S YOUR RAASHEE? is interesting, but the big screen adaptation isn't. To start with, you connect with barely a few stories, mainly the one who has a past and also the final one, of an underage girl. But several stories appear ridiculous and hence, ruin the impact generated by several wonderful moments. The jeweller's daughter, who believes in punar janam, falls flat. Ditto for the other jeweller's daughter, who pretends to be childish so as to test the intentions of the dulha. It's farcical. But the most ludicrous one is the businesswoman who has a pre-nuptial agreement in place, even before meeting the dulha. Even Darshan Jariwala's track, towards the end specifically, tests the patience of the viewer. The detective drama is also ludicrous. Besides, the climax is far from convincing. The nanaji appears suddenly with a bagful of currency and the dues of the moneylenders and goons are settled soon after the saat pheras. How convenient! Even the choice of the girl is debatable, since she has chosen him on a rebound [when she found that her lover was cheating on her]. In fact, the dulha had, rightfully, thought of the girl with the past and should've settled with her instead. That would've been a convincing finale. Ashutosh Gowariker gets it wrong this time thanks to the poor screenplay. The writing is the biggest culprit here. Sohail Sen's music is easy on the ears, but why so many songs? A few songs can easily be deleted. Piyush Shah's cinematography is perfect. WHAT'S YOUR RAASHEE? belongs to Priyanka Chopra. No two opinions on that. Words would fail to do justice to the remarkable portrayal of twelve different characters by this actor. This is her finest work to date. Harman is extremely likable and enacts his part with complete understanding. Darshan Jariwala is alright. Anjan Srivastava is as usual. Visshwa Badola is first-rate. Pratik Dixit does well. On the whole, WHAT'S YOUR RAASHEE? is a king-sized disappointment.
Sunday, September 20, 2009
Sunday, April 26, 2009
فنونِ لطیفہ کاسوئچ بورڈ ‘حنادل پز ِیر

حنادل پزیرفن کی رسیاہے ۔سچی ‘البیلی اورمتنوع آرٹسٹ۔ شعر‘فلسفہ ‘افسانہ ‘تھیٹر‘ڈراما‘اداکاری ‘نغمہ اورطنزومزاح ۔حناان سب منزلوںسے سرخرو گزری ہے۔شایداس میںمعانی کابھی حسن ہے کہ وہ جس ِمحفل میںموجودہو‘وہاںکوئی بہت اہم اوردلچسپ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔وہ جب بولتی ہے توایسالگتاہے کہ کوئی بہتربات ہورہی ہے۔اسلوب ِبیان ایساہے کہ جوسنتاہے عش عش کراٹھتاہے۔ اس کی طبیعت میںحد درجہ شوخی ‘طراری اوربے باکی ہے ۔باتوں باتوں میں سامنے والے کی ایسی ایسی شگفتہ چٹکیاںلینے لگتی ہے کہ ہنستے ہنستے سب کی بری حالت ہوجاتی ہے ۔وہ آئے تو جیسے سیدضمیرجعفری یامشتاق احمدیوسفی کا متحرک لفظوں اوردلچسپ شوخیوںمیںتخلیق کردہ کوئی فن پارہ انسانی خدوخال اوڑھ کرسامنے آن موجودہوتاہے۔
حنادل پزیرکومیرے نگارخانہ ء محسوسات میںرہائش پزیرہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے ۔پہلی باراسے گڈمارننگ پاکستان (اے آروائے کامارننگ شو)کے ویڈنگ ویک میں دیکھا۔اس کی شخصیت بڑی زوداثرتھی ‘ہڈیوںمیں رچ بس جانے والی ‘اپنی مہرلگادینے والی ۔ اگرچہ وہ روزبدلنے والے گیٹ اپ میں نمودارہوتی تھی اورلب ولہجہ بھی کردارکے مطابق تبدیل ہوجاتاتھالیکن تہہ میںکوئی ایسی بات ضرور تھی جوکچھ معمول سے ہٹی ہوئی محسوس ہوتی تھی ۔یہاںمیںفن ِاداکاری کے حوالے سے کچھ دل کی باتیں ضرورکہناچاہوںگا۔آج کا پاکستانی ڈراماکسی بھی اداکاریااداکارہ کے پرستارکے لئے انتشارکی دلدل بن گیاہے۔میںحناکی اداکاری کاکوئی اچھابراپہلوپیش نہیں کرنا چاہ رہا‘نہ ہی اس حوالے سے کوئی نئی بات کہہ سکتاہے ۔وہ بلاشبہ ایک عمدہ اداکارہ ہے لیکن مجھے یہ عرض کرنامقصودہے کہ میںپاکستانی ڈرامے میں آرٹسٹوںکے غیرمتاثرکن (بلکہ بے رونق اوربانجھ )گیٹ اپ کی وجہ سے اپنے پسندیدہ اداکاروںکے ڈرامے بھی چندمنٹ کے لئے نہیں دیکھتااوراکتاکرچینل بدل دیتاہوں۔اگرایک ناظرایسانہ کرے توفراغت کے جوچندلمحات مشکل سے اسے میسر آتے ہیں وہ بھی بوجھل ہوجائیںاورتنہائیاںاندھیرے میں ڈوب جائیں۔قصہ مختصریہ ہے کہ حقیقت پسندی بھی ضروری ہے لیکن وقت(سپوتنک ایج) کے تقاضے بھی بہرحال مقدم رکھنے چاہئیں۔
یہاں اس شو (مارننگ شو گڈمارننگ پاکستان)میں گیٹ اپ میںوہ وسعتیں‘تنوع اوررنگارنگی پائی جاتی ہے جودل لبھاتی ہے۔اب ہم واپس حناکی طرف آتے ہیں۔یہ شوحناکے فنی کیرئیرکے لئے حیات ِنواور’جانِ دیگر‘کی حیثیت رکھتاہے۔ویڈنگ ویک میںاس نے کرداروںکی جوکہکشاںبکھیری اس کاماخذ(گیٹ اپ ‘ سٹائلنگ اورسکرپٹنگ) بھی وہ خودہی تھی۔شادی کے حوالے سے جوکردارتھے ‘اس نے ان کی صحیح عکاسی کی۔ ایک حسن ہے جوپیداکیاجاتاہے ‘ملبوسات کے ذریعے ‘ سیٹ کے ذریعے ‘ایک حسن ہے ‘جوہوتاہے ‘بس اس کی نزاکت‘تہذیب اوررکھ رکھائو کاخیال کیاجاتاہے۔یہاںحناکاساراکام شخصیت کے اظہارکاکھیل ہے جوہرکھیل سے مشکل ہے ۔اس کھیل میں کامیابی کاصرف ایک ہی گرہے اوروہ ہے تجربات میں صداقت اورسوچ میں گہرا خلوص۔حنادل پزیراپنے نام کی طرح نظرفریب پیکر کی مالکہ ہے ۔ وہ شومیں آکربیٹھتی ہے توآن کی آن میں جانِ محفل بن جاتی ہے اورگفتگوصرف لطیفوں‘پھلجھڑیوںیاپھبتیوںتک ہی محدودنہیں رہتی بلکہ دنیاجہاں کے جس بھی موضوع پراس سے بات کی جاتی ہے تو اک ذراچھیڑئیے ‘پھردیکھئے کیاہوتاہے ‘والامعاملہ ہوتاہے۔
حنابھرپورادبی ذوق اورسماجی شعورسے بھری ہوئی گاگرہے ۔سطورِبالامیں جوحوالے بیان کئے ہیں ‘میں خودنہیں جانتاکہ پہل کہاں اور کس چیزمیں ہے۔اس کی ہربات شعرہے اورہرشعرمیں کچھ بات ہے ‘افسانہ ہے۔ میںتو کہوںگاکہ وہ’زندگی برائے فن‘اور’فن برائے زندگی ‘کی تفسیرہے اوران دنوںاس کافن انتہائی عروج پرہے۔اس کی زبان بے حدصاف ستھری اوررسیلی ہے ‘اس کی باتوںمیں کہیںغزل کی سی مٹھاس اورکہیںنظم کی سی روانی آجاتی ہے جس سے یہ اندازہ کرنامشکل نہیںکہ اس کاکتابی علم بھی خاصاوسیع ہے ۔زبان ومحاورہ پرقدرت اس کی ایسی خوبی ہے جوآج کل پاکستانی آرٹسٹوںمیں خال خال دکھائی دیتی ہے۔یہ بھی اس عہدکی ایک تلخ سچائی ہے کہ زمانے کی بے چینی اورمصروفیت میں ’’ادب ‘‘لکھنااورپڑھناغیرممکن ساہوگیاہے‘اس لئے سولہ آنے کی بجائے چارچھ آنے سے کام چلاناپڑتا ہے۔بات بھٹک نہ جائے اس لئے فنی دیانت اورآسانی کے لئے اتناکہوںگاکہ آج سطحی کام اوربے پروائی کے باعث ٹوٹے پھوٹے فنون (شعر‘افسانہ ‘ڈراما‘اداکاری ‘نغمہ اورطنزومزاح)جن چندفن کاروں کی طرف امیدبھری نظروںسے دیکھ رہے ہیں ‘حنادل پزیران پختہ کاروںمیں سے ایک ہے ۔
میرے خیال میںکسی فنکارکی پرکھ اس کے شعری ذوق سے ہوتی ہے(اس بات سے میرے علاوہ کسی کامتفق ہوناضروری بھی نہیں)۔فی زمانہ جب شعرکے معاملے میں ذوق شعرسننے کے بجائے گنگناناہوگیاہے ‘حنادل پزیرمعنی کے حسن کوشعرکے خدوخال میں ایسے حل کردیتی ہے کہ حرف وصوت کے دلدادگان اورکن رسوں کواس کے سلجھے اورمعیاری ذوق کا قائل ہوتے ہی بنتی ہے ‘حناکی غزل میں مشاہدے کی گہرائی اورمتوازن اسلوب کی وجہ سے اردوغزل کاارتقاء بہت واضح دکھائی دیتاہے۔مجھ تک اب تک اس کی جوغزلیںپہنچی ہیں ‘ان میں اس کی شعریت بڑی اجلی ‘جمیل اورجذباتیت سے پاک لگی اورمجھے بہت دیرتک سوچتاچھوڑگئی ۔
بکھرے بکھرے سے رہتے ہیں ‘ ساحل ‘ چاند ‘ ہوا اور میں
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہیں ‘ ساحل ‘ چاند ‘ ہوا اور میں
جب پانی میں چاند کی کرنیں عکس بنانے لگتی ہیں
آپس میں کھیلا کرتے ہیں ‘ ساحل ‘ چاند ‘ ہوا اور میں
کوئی صدا مجبور کئے جاتی ہے ہمیں کچھ کہنے پر
بات مگر کم ہی کرتے ہیں ‘ ساحل ‘ چاند ‘ ہوا اور میں
گل خوشبو سے ‘ دل امید سے ‘ آنکھیں نیند سے خالی ہیں
برسوں بیتے جاگ رہے ہیں ‘ ساحل ‘ چاند ‘ ہوا اور میں
جی چاہاکہ وہ کچھ عرصہ اسی فن(شاعری) پر کام کرتی رہے اوراردوغزل میں ایسے خوبصورت اضافے کرتی جائے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی شاعری بیکراں نسوانیت کی علامت نہیںرہی بلکہ کائنات ِدل سے دل ِکائنات کے سفرکی حسین رودادبن گئی ہے ‘ایک شاعرہ کے لئے یہ کسی اعزازسے کم نہیں کہ اس کی شعریت نسوانیت کے دریچوںاورروزن ومحراب کی قیدسے آزادہوکرعالمگیرکیفیات کی حامل ہوجائے۔ویسے توخود بھی اپنے ایک شعرمیں اس خیال کااظہارکرتی دکھائی دیتی ہے کہ آج وہ جس منزل پرکھڑی ہے وہاںکی مٹی کو اس نے اپنے پائوںپکڑنے نہیں دیے۔ وہ بے بس‘سراسیمہ‘مایوس یاشکست پسندوںمیںسے نہیںبلکہ ہمہ وقت اچھے مستقبل پرایمان رکھتے ہوئے اپنی سوچ کے راستے پر تلاش اورجستجوکاسفرطے کرنے والوںمیںسے ہے۔حناکے الفاظ میں۔
نگاہِ شوق ابھی تک کسی تلاش میں ہے
ترا جمال ‘ ترے خد و خال اپنی جگہ
دوسری خواتین شاعرات کے برعکس حنادل پزیرکی شاعری خواتین کے مخصوص ادب کی چاردیواری تک محدودنہیں‘اس کی یہی ناآسودگی اورنئی دنیاکی تمنااس کے اندرپوشیدہ بہت سے امکانات کوظاہرکرتی ہے ۔خداکرے کہ اس کی آزادی ء خیال کی یہ لویونہی تیزرہے اوراس کامجموعہ ء کلام جلدچھپ کردلدادگان ِشعرتک پہنچے۔اس سے پہلے کہ ہم شاعری کاموضوع ختم کریں‘ حناکے ہاںجدیدتر غزل کی بنیادیں پڑتے دیکھتے جائیے ۔وہ کہتی ہے ۔
ابھی تو گھیرے ہوئے ہے ہجوم ِ تنہائی
بقیدِ ہجر ‘ امیدِ وصال اپنی جگہ
جنونِ شوق بھی برسوں کے داغ دھو نہ سکا
اسی طرح سے ہے شیشے میں بال اپنی جگہ
بساطِ عشق پہ لٹتی رہے گی دولتِ دل
رہے گا سود و زیاں کا سوال اپنی جگہ
ہنسی خوشی کے یہ موسم تو آگئے لیکن
پڑا ہوا ہے محبت کا کال اپنی جگہ
حنا محبت ‘امن وآشتی اوراعلیٰ انسانی اقدارکی شاعرہ ہے ‘جب ان اجزامیں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تووہ اپناکرب چھپانہیں پاتی ۔نجانے کیوںپیرفضل صاحب کایہ شعرلکھنے کوبہت جی چاہ رہاہے(بے محل ہوتوپیشگی معافی کاخواستگارہوں)۔
فضل وچ شعراں دے ‘ ڈونگھی سوچ دا کی فائدہ
لوک مونہہ وہندے نیں ‘ اج کوئی ہنر وہندا نئیں
حنامیںزندگی اوراس کی توانائی کی قدروںکی علمبرداری کے سارے گن ہیںبلکہ شایدفنکارخودعظمت ِفن کااحترام کرنے والاہوتوزمانہ بھی بالآخراس کے فن کی عظمت کوتسلیم کرنے پرمجبورہوجاتاہے۔
خیالات ہیں کہ برسات کے پتنگوںکی طرح اڑے پھررہے ہیں‘کہیںیکجا نہیں ہوپارہے۔ارادہ توپکاپیٹھایہی تھاکہ حنادل پزیرپرکوئی ہنستامسکراتا ساکالم تحریرکروںگالیکن اب سوچتاہوںکہ اپنی کوتاہی ء فن کااعتراف کرہی لوں۔اتنے ہنستے مسکراتے لفظ نہ تومیرے قلم میں ہیںاورنہ ہی ایسے دلوںکوگدگدادینے والے قہقہہ مارحرف میرے کی بورڈکی کیزمیں ‘جو مل جل کرحنادل پزیرکوچارچھ عدد چاندلگاکرروشن کردیںاورمجھے جینیئس کامرتبہ دلادیں‘سوخواہ مخواہ کی مغزدردی اوربیکارکی جسمانی مشقت کرنے کے بجائے دومصرعے گھسیٹ کر پاندان اٹھاتااوردوکان بڑھاتاہوں۔
وہ اک شریر سے جھونکے کی طرح جب آیا
مجھے حیات کا ماحول خوشگوار لگا
سیدانوارگیلانی
Monday, April 20, 2009
ژی ٹی وی کی انمول ’رتن‘راجپوت

ژی ٹی وی کی انمول ’رتن‘راجپوت صاحب ایک زمانہ تھاکہ ٹیلی ویژن کی دنیامیں گنے چنے اداکاروں اوراداکارائوں کوبڑی اہمیت حاصل تھی ۔ہردوسرے ڈرامے میں وہی چہرے دکھائی دیتے تھے ۔سمجھاجاتاتھاکہ بس یہی قابل آرٹسٹ اورفن کے بہت بڑے شناورہیں لیکن جب سے پرائیویٹ چینلوں کاایک نیاعالم بساہے اورمیڈیاکی ایک نئی دنیاآبادہوئی ہے ‘چند آرٹسٹوں کوہی ثبات نہیں رہا ۔سوپ سیریلزہوں‘چیٹ شوزہوں یارئیلٹی شوز‘صرف سینئرزہی ہاٹ سیٹ کی رونق نہیں رہے ۔پہلے نیشنل چینلزکے زمانے میں توپرانے طوطوں کویونانی طب اورحکیم جالینوس کی تحقیق کی طرح اٹل سمجھاجاتاتھا۔آج کل ایسانہیں ہوتا۔خودفریبی کانشہ کرنے والوںکانشہ بڑی جلدی ہرن ہوجاتاہے۔روزنت نئے شوزشروع ہوتے ہیں ‘اجزائے ترکیبی بدلتے ہیں‘پسندناپسندبدلتی ہے اورٹی وی کانقشہ بھی بدل جاتاہے ۔مجید امجد کی زبان میں
یہ لوح ِدل ‘ یہ لوح ِدل نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے
ان دنوں ژی ٹی وی کی ایک نئی دریافت رتن راجپوت نئے سوپ سیریل ’اگلے جنم موہے بٹیاہی کیجو‘سے پنپنے کے لئے پوری فضاقائم کئے ہوئے ہے ۔رتن راجپوت اس سے پہلے این ڈی ٹی وی امیجن کے سوپ ’رادھاکی بیٹیاں کچھ کردکھائیں گی‘میں سپورٹنگ رول ادا کرکے دادپاچکی ہے لیکن ’اگلے جنم‘کااپناہی ایک رنگ ہے ۔رتن راجپوت نے اس سیریل سے جتنی تیزی سے توجہ اورقبول خاص وعام حاصل کی ہے ‘وہ قابل ِتعریف ہے ۔اس دھان پان اورسبک سی فرخندہ جمال ‘پری تمثال ‘ناہیدخصال اورآئینہ بدن لڑکی کودیکھ کرزندگی ‘توانائی‘تروتازگی اوررنگ وروپ کابھرپوراحساس پیداہوتاہے اورشاعرکایہ خیال رقم کرنے کوجی کرتاہے۔
شریرروحیں
ضمیر ِہستی کی آرزوئیں
چٹکتی کلیاں
کہ جن سے بوڑھی
اداس گلیاں مہک رہی ہیں
سیریل کاموضوع بھی رتن راجپوت کی طرح دل نشین ہے ۔یہ اس ’کچھ سخی اورکچھ بے سروساماں‘خاندان کے عزم وہمت کی داستان ہے جو’’گریزاں روشنی ‘‘کے تعاقب میں ہے ‘جوپائوں توڑکربیٹھنے اورہتھیارڈالنے کاقائل نہیں ‘جن کے ہاں مایوسی کفراورحرکت ہی مقصد ِزندگی ہے سووہ دردوں‘کربوں ظلموںاورمعاشرے کی نوچاکھسوٹی سے بڑی پامردی اوراستقامت کے ساتھ نبردآزماہیں۔’’اگلے جنم ‘‘کے ذریعے ژی نے ناظرین کوبھی بڑے حوصلے دئیے ہیں اورجذبہ وحساس کی نئی دنیائوںسے روشناس کرایاہے ۔یہ انڈین تخلیق کاروں کے فنی خلوص کاکرشمہ اورزندگی کانباہ ہے کہ وہ اتنے سچے ‘اچھوتے اورتنومنداندازمیں ناظرین کے دل ودماغ تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں کہ داددیتے ہی بنتی ہے ۔حفیظ جالندھری کایہ شعر اس سیریل کی ٹیگ لائن کے طورپراستعمال کیاجاسکتاہے ۔
آبروئے حیات کی خاطر۔آرزوئے حیات باقی ہے
آج کاناظررتن راجپوت سے صرف ِنظرنہیں کرسکتا۔اس نے بہت کم وقت میں اپنے فن کالوہامنوالیاہے ۔وہ آنے والے کل کاچہرہ ہے ‘تابندہ اورپاکیزہ۔اس کی اٹھان اس کے روشن مستقبل کی غمازی کرتی ہے ۔وہ جس چوکھٹ کاچراغ ہے وہاںافراط وتفریط کاکھٹکاتوبہرحال نہیں ہوتا‘بہرحال خداکرے ‘اسے ایسے کردارملیں جواس کے ہونٹوں کی طرح اس کی آنکھوں کوبھی مسکراہٹ سے آشناکردیں ۔مجھے یقین ہے کہ میری طرح دیگرناظرین بھی اس دن کے منتظرہیں۔
Saturday, January 24, 2009
دس کادم/Dus ka Dum
اے آررحمان کے چاہنے والوںکی خوشی کااس وقت کوئی ٹھکانانہیں کہ سلم ڈاگ ملینئیرکوملنے والی آسکرزکی دس نامزدگیوںمیں سے تین تورحمان صاحب کے نام سے منسوب ہیں۔ویسے اگرسچ پوچھیں تورحمان صاحب جیسے موسیقی کے عالمی سفیرکے لئے آسکرکی یہ نامزدگی اورپھر آسکرکاایوارڈبھی کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔رحمان صاحب نے قریب دودہائیوںتک پھیلے ہوئے میوزک کیرئیرمیں ہمیشہ معیاری کام کیاہے اوردنیابھرمیں پھیلے ہوئے ان گنت مداحوںکے دلوںمیں جگہ پائی ہے ۔بڑی خوشی کی بات ہے ۔کسی مداح نے خوب کہاتھاکہ ادھرادھربات کومت گھمائوبس اس پل کالطف اٹھائو۔سویہی کرتے ہیں ۔باقی باتیں پھرکے لئے اٹھارکھتے ہیں۔رحمان صاحب آپ یونہی پھولیںپھلیں،پروان چڑھیں۔ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
