Saturday, May 10, 2008

Free online Sketch Generator

If you feel it difficult with professional tools to generate sketches of any photograph like one of yours, Sketch Generator is the right tool for you. Its an online image processing utility will generate a “sketch”-like abstraction of your digital photograph.
http://sporkforge.com/imaging/sketch.php

Just upload any file of yours and it generates the sketch in few seconds. Not only this you can specify
Sketch Resolution
Sensitivity Threshold
Colors
The sketch resolution allows you to define the resolution of the image. A very high resolution picture works best. On the other hand Sensitivity thresh hold allows you to define level of detail that will be sketched. The lower the number, the more dense and detailed the sketch.
In case you don’t want a black and white sketch add some RGB color codes to it and the sketch will be generated accordingly.

Saturday, May 3, 2008

جاویدچوہدری کانظریہ ء کالم نویسی

جاویدچوہدری صحافتی کالم نویسی کاایک معتبرنام ہیں۔ ان کے کالمز عصرِحاضرکے سماجی اورسیاسی مسائل کا آئینہ ہوتے ہیں۔ آئینے میں اوران کے کالمزمیں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ آئینہ صرف عکس دکھاتاہے لیکن خرابیاں دورکرنے کیلئے حل تجویزنہیں کرتا۔ ان کے کالم نویسی کے سٹائل کوہمارے یہاں کافی موضوع ِبحث بنایاجاتاہے کہ وہ کالمزمیں افسانہ لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کالموں کے مجموعے زیروپوائنٹ میں اپنانظریہ ء فن یوں پیش کیاہے
کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے
(میری داستان، تھوڑی تھوڑی)
میرے کالم عموما کسی واقعے، داستان یا کہانی سے شروع ہوتے ہیں میرے ناقدین اس سٹائل کو افسانوی یا داستانی کہتے ہیں، میرے احباب کی یہ آبزرویشن بیک وقت درست بھی ہے اور غلط بھی، میں سب سے پہلے غلط کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں بڑے عرصے سے قومی اور بین الاقوامی ادب کا طالب علم چلا آ رہا ہوں چنانچہ میں سمجھتا ہوں افسانہ ادب کی معراج ہے اور یہ ایک ایسی نازک، اعلی اور ارفع صنف ہے جس میں کام کرنا اور اپنا مقام بنانا میرے جیسے چھوٹے، کم فہم اور جلد باز شخص کے بس کی بات نہیں، یہ ایک ایسی ملکوتی اور سماوی صنف ہے جس کا سہارا لینے پر ژاں پال سارتر جیسے فلسفی اور دوستوفسکی جیسے ادب کے امام تک مجبور ہو گۓ تھے میرا دعوی ہے جب کوئی ادیب فن کی انتہا کو چھوتا ہے تو اس وقت وہ افسانہ نویس کہلاتا ہے میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں صحافت ادب کے مقابلے میں ایک کم اہم، سطحی اور عارضی شعبہ ہے ادیب صدیوں پر محیط زمانوں کے لیے ادب تخلیق کرتے ہیں جبکہ ہم جیسے صحافیوں کے کام اور ہماری تحریروں کی عمر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتی چنانچہ میرے جیسے دنیا دار صحافی کو افسانہ نویسی کا اعزاز بخشنا ادب اور افسانے دونوں کی توہین ہے اور جو لوگ یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں میرا خیال ہے انھوں نے کبھی کوئی اخبار پڑھا اور نہ ہی اچھے افسانے، ہاں البتہ اگر ایک پہلو سے دیکھا جاۓ تو ان لوگوں کی بات درست بھی ہے میں کالم میں وہی تکنیکس استعمال کرتا ہوں جو عموما افسانہ نویس اپنی تحریروں میں کرتے ہیں، افسانے میں کہانی ہوتی ہے اور میرے کالم میں بھی کہانی کا عنصر پایا جاتا ہے، افسانے میں کردار ہوتے ہیں جزئیات، تفصیل اور جذبات ہوتے ہیں اور میرے کالم میں بھی یہ تمام اجزاء پاۓ جاتے ہیں لیکن ان تمام اجزا کی موجودگی کے باوجود افسانے اور میرے کالم میں ایک بڑا فرق ہے، اس فرق کا نام حقیقت ہے افسانے کے تمام اجزاء غیر حقیقی اور فرضی ہوتے ہیں اور لکھاری افسانے میں اپنا فلسفہ اپنا نظریہ اور اپنے تخلیقی جوہر ثابت کرنے کے لیے کہانی اور کرداروں کا سہارا لیتا ہے

Monday, April 28, 2008

IPL T20 Point Table 4/30/2008

شائقین ِکرکٹ کی دلچسپی کومدِنظررکھتے ہوئے بلاگ میں آئی پی ایل ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے سنسنی خیزمقابلوں سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی کیلئے لائیوسکورکارڈ شامل کیاجارہاہے۔دائیں طرف نیچے کولکتہ نائٹ رائڈرزکے میچزکارزلٹ بمعہ سکورکارڈبھی نظرآئے گا۔ ہیپی ٹوئنٹی ٹوئنٹی

فرد ِفردا۔مظفروارثی

میرے استادِسخن جناب حسان العصرمظفروارثی صاحب
کیفی اعظمی کلام پڑھ رہے ہیں۔ مظفروارثی بھی موجودہیں
فرد ِفردا۔مظفروارثی ایک سیریزہے جس میں میرے استادِسخن مظفروارثی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت اورفنی خدمات پرمعروف ادیب و دانشورشخصیات کی آراء اورتبصرے شامل کئے جائیں گے۔اس کے ساتھ ان کے ذاتی البم سے قیمتی تصاویرسے بھی اس سیریزکوتقویت دی جائے گی۔
میرے استادِسخن جناب حسان العصرمظفروارثی صاحب کی کتاب الحمدپرجناب اشفاق احمدکی رائے پیش ِخدمت ہے ۔نظم ان کے اپنے عکس ِتحریرمیںہے۔

عکس ِتحریر۔حسان العصرمظفروارثی